سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا ہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھا روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخا جس نور کو تو نے سر کنعان میں دیکھا برہم کرے جمعیت کونین جو پل میں لٹکا وہ تری زلف پریشان میں دیکھا واعظ تو سنے بولے ہے جس روز کی باتیں اس روز کو ہم نے شب ہجران میں دیکھا اے زخم جگر سودۂ الماس سے خو کر کتنا وہ مزا تھا جو نمک دان میں دیکھا سوداؔ جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا
ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا
ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا خون ہے سو دار پر ثابت مرے منصور کا پونچھتے ہی پونچھتے گزرے ہے مجھ کو روز و شب چشم ہے یارب مری یا منہ کسی ناسور کا آفتابِ صبحِ محشر داغ پر دل کے مرے حکم رکھتا ہے طبیبو! مرہمِ کافور کا کیا کروں گا لے کے واعظ ہاتھ سے حوروں کے جام ہوں میں ساغر کش کسی کی نرگسِ مخمور کا اس قدر بنت العنب سے دل ہے سودا کا برا زخم نے دل کے نہ دیکھا منہ کبھو انگور کا
وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے
وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے یہ جو سلجھا سلجھا کلام ھے ؛ ترے نام ھے....!!! وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے ؛ مرے چاؤ تھے یہ یقیں جو مست خرام ھے ترے نام ھے..!! وہ جو تشنگی سر آب تھی ؛ مرا خواب تھی یہ جو موج موج کا جام ھے ؛ ترے نام ھے..!! وہ جو ٹمٹماتا چراغ تھا ؛ مرا داغ تھا یہ جو نور ماہ تمام ھے ؛ ترے نام ھے وہ جو آنسوؤں بھری رات تھی مری بات تھی یہ جو قہقہوں بھری شام ھے ؛ ترے نام ھے۔۔!! وہ جو راستوں کا غبار تھا ؛ کسے بار تھا یہ جو منزلوں کا مقام ھے ؛ ترے نام ھے