محمد رفیع سودا

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا

01 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا ہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھا روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخا جس نور کو تو نے سر کنعان میں دیکھا برہم کرے جمعیت کونین جو پل میں لٹکا وہ تری زلف پریشان میں دیکھا واعظ تو سنے بولے ہے جس روز کی باتیں اس روز کو ہم نے شب ہجران میں دیکھا اے زخم جگر سودۂ الماس سے خو کر کتنا وہ مزا تھا جو نمک دان میں دیکھا سوداؔ جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا

— محمد رفیع سودا

ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا

ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا خون ہے سو دار پر ثابت مرے منصور کا پونچھتے ہی پونچھتے گزرے ہے مجھ کو روز و شب چشم ہے یارب مری یا منہ کسی ناسور کا آفتابِ صبحِ محشر داغ پر دل کے مرے حکم رکھتا ہے طبیبو! مرہمِ کافور کا کیا کروں گا لے کے واعظ ہاتھ سے حوروں کے جام ہوں میں ساغر کش کسی کی نرگسِ مخمور کا اس قدر بنت العنب سے دل ہے سودا کا برا زخم نے دل کے نہ دیکھا منہ کبھو انگور کا

— محمد رفیع سودا

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے یہ جو سلجھا سلجھا کلام ھے ؛ ترے نام ھے....!!! وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے ؛ مرے چاؤ تھے یہ یقیں جو مست خرام ھے ترے نام ھے..!! وہ جو تشنگی سر آب تھی ؛ مرا خواب تھی یہ جو موج موج کا جام ھے ؛ ترے نام ھے..!! وہ جو ٹمٹماتا چراغ تھا ؛ مرا داغ تھا یہ جو نور ماہ تمام ھے ؛ ترے نام ھے وہ جو آنسوؤں بھری رات تھی مری بات تھی یہ جو قہقہوں بھری شام ھے ؛ ترے نام ھے۔۔!! وہ جو راستوں کا غبار تھا ؛ کسے بار تھا یہ جو منزلوں کا مقام ھے ؛ ترے نام ھے

— ساجد رحیم